ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مولانا کلیم صدیقی کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ ، رہائی کامطالبہ

مولانا کلیم صدیقی کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ ، رہائی کامطالبہ

Thu, 30 Sep 2021 12:19:47    S.O. News Service

    گلبرگہ، 30؍ستمبر(ایس او نیوز؍راست)  مرکزی سیرت کمیٹی ضلع گلبرگہ کی جانب  سے کل دوپہرڈپٹی کمشنر گلبرگہ کے ذریعہ صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک یادداشت پیش کی گئی۔ یادداشت میں مولانا کلیم صدیقی داعی اسلام کی جلد از جلد رہائی اور اُن پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر شیخ شاہ محمد قوام الدین جنیدی المعروف ایڈوکیٹ وہاج بابا نے جذباتی انداز میں احتجاجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کے پڑوسیوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ اُن کے پڑوس میں پچھلے کئی سالوں سے مقیم ہیں لیکن اُنہوں نے کبھی مذہب کی تبدیلی کے متعلق کچھ بھی نہیں کہااور مولانا کے پڑوسی بھی اُن کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہاج بابا نے کہا کہ دستور کی دفعہ25میں ہر ہندوستانی کو اس بات کا پورا حق ہے کہ وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے اُس کی تبلیغ و تشریح کرسکتا ہے۔ آئندہ سال منعقد ہونے والے اُتر پردیش کے انتخابات کے پیش نظر مولانا کلیم صدیقی پر یہ کارروائی کی گئی ہے، جو آئین کے خلاف ہے۔اُنہوں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد از جلد مولانا کو رہا کرے،ہمارے علماء آئمہ و دانشوروں کو وقت کی حکومتیں اپنے مفادات کو حاصل کرنے کیلئے ناجائز گرفتار کرتے ہوئے اُن پر بے بنیاد الزامات لگا رہی ہے ہم اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت اور اُتر پردیش کی یوگی حکومت مولانا کو جلد رہا نہ کرے تو گلبرگہ کی عوام جیل بھرو اندولن شروع کریگی۔ مولانا کی گرفتاری یہ صرف مسلمانوں پر حملہ نہیں ہے بلکہ جمہوریت، قومی یکجہتی اورگنگا جمنی تہذیب پر یقین رکھنے والے ہر فرد پر حملہ ہے۔وہاج بابا نے کہا کہ گلبرگہ کے عوام ہمیشہ مولانا کلیم صدیقی کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں اُنہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ، اور گلبرگہ کے رکن اسمبلی محترمہ کنیز فاطمہ صاحبہ کا ساتھ ہمیشہ مولانا کے اہلِ خانہ کے ساتھ رہیگا۔

    اس کے علاوہ سیرت کمیٹی ضلع گلبرگہ کی جانب سے آسام میں چند دن قبل مسلمانوں کے گھروں کو غیر قانونی قبضہ کے نام پر ہٹایا گیا اُس کے خلاف بھی احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کے توسط سے صدر جمہوریہ ہند اور مرکزی حکومت کو یادداشت روانہ کی گئی۔ آسام کی پولیس مسلمانوں پر جو ظلم و بربریت کر رہی ہے اُس کو قطعی برداشت نہیں کیا جائیگا۔ پولیس احتجاجیوں کے سینے پر گولی مار رہی ہے جو غیر قانونی عمل ہے، اگر کوئی قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتا بھی ہے تو پہلے اُن کے پیروں پر گولی چلائی جانی چاہئے لیکن پولیس نے ایسے نہ کرتے ہوئے مظلوموں کے سینوں پر گولی چلارہی ہے۔ آخر وہاج بابا مرکزی سیرت کمیٹی ضلع گلبرگہ کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کررہے تھے کہ آسام میں اُن پولیس والوں کو فوری طور پر برطرف کرتے ہوئے اُن کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ اس موقع پر علماء، دانشور، تجار،سیاست دانوں کے علاوہ رکن اسمبلی گلبرگہ شمال محترمہ کنیز فاطمہ صاحبہ اورعوام کی کثیر تعداد نے احتجاج میں حصہ لیا۔


Share: